ترک صدر کے دورہ پاکستان سے مودی بوکھلاہٹ کا شکار

فروری کا مہینہ نا صرف پاکستان اور بھارت بلکہ دنیا بھر کے لیے سیاسی محاذ پر بہت گرم ہو گا کیونکہ 13 اور 14 فروری کو ترک صدر طیب اردوان پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب کہ فروری کے آخر میں ہی امریکی صدر بھارت کا دورہ کر رہے ہیں۔لیکن نریندر مودی طیب اردوان کے دورہ پاکستان پر خاصی بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔
اسلامی دنیا کے لیڈر طیب اردوان نے کشمیر پر کھل کر پاکستانی موقف کی حمایت کی۔بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھارت کے دو روزہ سرکاری دورے پر24 فروری کو نئی دہلی پہنچیں گے۔امریکی صدر کا یہ دو روزہ یہ دورہ 24 تا 25 فروری کو ہوگا ۔لیکن بھارتی وزیراعظم نے امریکی صدر کو 11 روز قبل ہی خوش آمدید کہہ دیا۔
اور خوش آمدید بھی ایسے وقت میں کہا جب تک ترک صدر طیب اردگان پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔
Comments
Post a Comment