کیا عمران خان کے وزیر خودسر ہیں؟

گزشتہ ہفتے ہنگو کی ایک سات سالہ معصوم بچی کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد پہلے چاقو کے وار سے قتل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بعد میں اُسے گولیاں برسا کر قتل کر دیا گیا۔
اس واقعے کا حوالہ دے کر سوشل میڈیا پر کسی نے پیپلز پارٹی اور دیسی لبرلز کے ایک مخصوص طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ ہنگو کی اس بچی کے ماں باپ اور خاندان کو جاکر سمجھائیں کہ اُن کی بچی کے ساتھ زیادتی کرنے اور پھر اُسے درندگی کے ساتھ جان سے مارنے والے کے بھی کچھ انسانی حقوق ہیں، جس کی وجہ سے اُسے سرِعام پھانسی نہیں دی جا سکتی اور یہ بھی کہ اگر اُسے سرِعام پھانسی دی تو یہ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی بلکہ ’’تہذیب یافتہ دنیا‘‘ بھی ہمارے بارے میں کہے گی کہ یہ کیسے لوگ ہیں۔
یعنی جن درندوں نے مدیحہ اور اس جیسی دوسری کئی معصوم بچیوں اور بچوں کو درندگی کا نشانہ بنایا اور اُنہیں قتل بھی کیا، اُنہیں نشانِ عبرت نہ بنایا جائے کیونکہ اگر اُنہیں سرعام لٹکایا گیا تو اس سے دنیا ہمارے بارے میں کیا سوچے گی کہ پاکستان میں انسانی حقوق پر عمل نہیں کیا جا رہا۔
Comments
Post a Comment